Main Menu

اِن کی کہانی میری زبانی

کبھی سوچتا ہوں کہ زندگی دوست ہے یا دشمن، نہ کبھی جوانی میں ساتھ دیا نہ بڑھاپے میں، اور چاہتے ہی کیا تھے ہم غریب اس زندگی سے؟ ایک وقت کی روٹی اور کچھ اپنوں کا ساتھ۔ بڑا رلاتی ہے زندگی ہم جیسے بے بسوں کو، جن کا آگے کوئی ہوتا نہ پیچھے کوئی ہوتا ہے۔  ہم بھی سوچتے تھے کہ جوانی میں پڑھ لکھ کر بن جائیں گے کچھ نہ کچھ، مگر غربت نے ہم سے ہمارا تعلیم ہی چھین لیا۔  اپنے بچپن تو سنوار نہیں سکے، سوچا تھا بیٹے کو پڑھائیں گے، مگر ہمیں خوشی کہاں راس آتی ہے۔ مر گیا بیٹا , شاید غربت ہے قاتل۔  مگر کبھی کبھی لگتا ہے، شاید مہنگے ہسپتال ہیں قاتل۔ اُس رات تڑپا تھا بہت، انسانیت کے مرجانے نے ستایا تھا مجھے، کہاں جاتا اپنا معذور پاوں لیکر ؟ لنگڑاتا,لڑکڑاتا پہنچ گیا کہیں ہاتھ پھیلائے ,شاید رویا بھی تھا، بچہ جو بیمار تھا، مگر تھا کون میرے مدد کرنے والا؟ اور تھا کیا میرے پاس جو میرے بیٹے کو بچا سکتا؟ ابھی بھی جب میں چکرا کر کہیں گر جاتا ہوں، تو سوچتا ہوں, اگر وہ ہوتا تو کوئی غم نہ ہوتا، سوچتا تھا زندگی نے قیامت کا منظر دیکھا ہی دیا، جیسے جہنم تھی ہر اک دن اور ہر اک رات۔ مگر زلزلہ تو اُس رات آیا تھا، جب میں جھولی پھیلا کر سڑکوں پر بھیک مانگ رہا تھا، کون کم بخت اپنے لیے اِن انسانوں کے سامنے جھکتا ہے، مگر مجبور تھا اپنے بیٹے سے، شاید اُس رات کسی ایسے نے دیکھا ہی نہ ہوگا مجھے، جو مدد کر سکتا میرا، مگر کبھی کبھی لگتا ہے، دیکھا ہوگا سب نے ،مگر کوئی آگے بڑھا ہی نہ ہوگا۔ میرے کانپتے ہاتھوں کو کسی نے غور ہی نہیں کیا ہوگا، تو کیا میرے آنسو بھی اِن پتھر دلوں کو پگلا نہیں سکے؟ اگر آج بیٹا ہوتا، تو کوئی کم نہ ہوتا، اگر انسانیت ہوتی ،تو کوئی غم نہ ہوتا۔ سوچتا ہوں مقدر ہم پر کب مہربان ہوگی، پھر جواب آتا ہے اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

آج بھی جب پورا دن شہر کا چکر لگا کے کام نہیں ملتا، تو ڈرتا ہوں گھر جانے سے، ڈرتا ہوں اُس بیوی سے آنکھ ملانے سے، جو صبح سے روٹی کے انتظار میں ہے، مگر حوصلہ دیکھو اُسکی، ہفتوں بھوکی رہ کر بھی شکایت نہیں کرتی، شاید عادت پڑ گئی ہوگی کہ غربت نے ہمارے ساتھ ہی زندگی کرنی ہے۔ کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر، کبھی اِس دکان تو کبھی اُس دکان، ہفتوں کی بھوک مٹانے کےلیے شاید کوئی کام مل جائے، مگر ایک ہی جواب ملتا ،اگر معذور نہ ہوتا تو اچھا ہوتا، جب دن بھر کی تھکان کے بعد کچھ نہ ملتا ہو تولگ جاتا ہوں گاڑیاں صاف کرنے، قسم سے،چار پیسے چاہیے ہوتا ہے صرف، تاکہ ہفتوں کی بھوک مٹا سکوں، مگر دھکہ دے کر چور کہا جاتا ہے۔ کبھی کبھی بھرے بازار عزت اچھالا جاتا ہے، لیکن بے عزتی سے کچھ نہیں ہوتا، دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ انسان کتنا بے رحم ہو گیا ہے۔ سوچتا تھا غربت بڑی کم بخت چیز ہے، انسان اور انسان کا رشتہ مٹاتا ہے، مگر میں غلط سوچتا تھا، کیونکہ رشتہ انسانوں نے خود ختم کیا ہے غربت نے نہیں۔ کبھی کبھی دیکھتا ہوں اپنا چہرہ بڑے بال،سیاہ آنکھیں اور ماتے پہ بل، یہ تو ہے باہر کا نظارہ اندر دیکھتا ہے تو صرف اپنے غم اور اپنی بے بسی، اب ہر طرف دیکھتا ہے مجھے اپنی ہار، آنکھوں میں صاف جلکھتا ہے میری بے بسی۔

ہاں!ہاں!ہاں! میں ہار گیا خود سے، میں ہار گیا ان بے رحم لوگوں سے اور، ہاں میں ہار گیا انسانیت سے۔

اے تاک ءَ سوشل میڈیا ءَ شنگ کنئے


« ( (Previous Post) پشتءِ نبشتانک )
((Next Post) دیمءِ نبشتانک ) »



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *