Main Menu

سید ظہور شاہ ہاشمی کے مجسمے کی جگہ ۔ کے بی فراق

بہت پہلے میں نے سید ہاشمی کی پیدائش کے سلسلے میں ایک مضمون بعنوان “ایک آوارہ گرد کی واپسی” کے حوالے سے لکھااورایک منعقدہ پروگرام میں پڑھا تھا۔جس میں سید کے تخلیقی وجود کو سمجھنے کی کوشش کی گئی البتہ اس استعارے کے جِلو میں سید ہاشمی کو گوادر کی گلیوں میں اس کی منشاء کے مطابق گھمایا کئے لیکن اس پر حیرت اس وقت طاری رہی کہ ان کے لیے کوئی بھی ایسی جگہ نہ رہی جس سےاسکی موجودگی صورت پزیر ہوتی۔اگر آج کے گوادر میں وہ پھر سے آن وارد ہوتے تو بالکل پدی زِر کے میرین ڈرائیو کے چوہرائے پر نصب بظاہر سید ہاشمی کا مجسمہ دیکھنے میں آتا لیکن اس کے نین نقش اور ماتھا کچھ اس طور مجسم کیا گیا کہ اس کو دیکھتے ہی سید پر واقعتاً غشی طاری رہی کہ ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود پہچان نہیں پایا کہ اب کے تو لوگوں نے محبت میں میرا چہرہ کچھ ایسے بنا دیا کہ اس محبت میں جانے کس کو اور کن کے لیے یہ مجسمہ لا نصب کیا گیا ہے۔

جب قومیں اپنی زبان اور اس کے کرداری حوالے کا محض سطحی حوالہ وضع کر جاتے ہیں تو اس اعتقاد کے عمل میں جانے کیا کچھ بنا اور بگاڑ رہے ہوتے ہیں اور اس زعم میں کچھ بھی پتا نہیں چلتا۔البتہ مارکیٹ کے مطابق برانڈ ضرور بنا اور چلا کرتے ہیں۔اس لیے اب کی بار واپسی کا سفر ہو تو سید خود کو ایک برانڈ کی صورت پائیں گے۔جبکہ نقد و نظر کےحوالےمفقود ہوکر محض چند ایک ستائشی کلمات سُننے کو ملیں گے اور پہلےکی طرح سب میر صاحب کی طرف دیکھیں گے ۔ کیونکہ ان دِنوں شعراء ادباء سارے کے سارے میر صاحب کی امامت میں موجود دکھائی دیے اور سید کہیں بیچ میں سے اصل میں کوچ کر گئے اور اس عالم میں سید کی حالت اذیت کوش ہوئی۔جس کا کبھی میں نے اپنے مضمون میں تذکرہ کیا تھا۔آج بہت تلاش کے بعد بھی مل نہ سکا اور یہ جنم دن بھی کے بی فراق کے لیے کہدہ احمد محلہ کےکھنڈر بنے گھر میں اس نیت میں گیاکہ اس بار بھی کسی خوبصورت عورت کی کوئی اسکیچ کی صورت ضرور کچروں کےڈھیر میں ملے گی کہ یہاں کبھی بہت کچھ ملا کرتا تھا۔شاید اب کے وہ گوادر بھی نہیں رہا جہاں کچرےمیں بھی اپنائیت کےحوالے در آتے۔ کیونکہ اب تو گلیاروں نے بھی اپنا جون بدل لیا ہوگا۔

جہاں صبحِ دم سید ہاشمی قاسم کےہوٹل کے بالکل پہلو میں دائیں جانب موجود فرش پر بیٹھ کر سمندر کا نظارہ کرنا چاہ رہے ہوتے تو دفعتاً ان کی نظروں کے سامنے ایکسپریس وے کی سڑک کسی شہتیر کی مانند آنکھوں میں کُھب رہا ہوتا اور اس بابت کسی میر اور میر کے پیادے نے بھی نہیں سوچا ہوگاکہ مجسمہ تو اسی جگہ پر نصب کیا جانا چاہیے تھا جہاں وہ بیٹھ کر دیمی زِر کے گہرے پانی میں کسی کردار کی پرورش کرنے میں منہمک دکھائی دیتے۔

اے تاک ءَ سوشل میڈیا ءَ شنگ کنئے


« ( (Previous Post) پشتءِ نبشتانک )
((Next Post) دیمءِ نبشتانک ) »



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *