Main Menu

شاہی بازار کا آخری آدمی ۔ کے بی فراق

شاہی بازار کا درویش صفت انسان اور ہمارے بچپن کا آخری کردار جو خود میں اس بازار اور یہاں کی زندگی سے متعلق بہت کچھ لیےہوئے ہے۔جہاں بیٹھ کر کبھی وہ آنے جانےوالوں اور سامنے چائے کے ہوٹل المعروف مُرک ہوٹل صبح کے وقت کچھ اور مقامی زندگی سے بھرپور لوگوں سے ملنا ہوتا اور شام کےوقت ان میں کچھ اور چہرے شامل ہوجاتے، جن کے ہاں ادب، سیاست، معاشرت ،کھیل اور ماہیگیری معاملات کو لیے انیک چہرےایکتا کےجِلو میں گویا ہوتے دکھائی دیتے ۔اور ابراہیم پان والے کے پہلو میں مغرب کی طرف ملا شعبان لسی بیچتے ہوئے اورساتھ ہی کاکامیاہ کو سامنےاپنے کجھور کی دکان میں بیٹھا دیکھتے تو اشاروں اشاروں میں گفتگو میں رواں ہوتے اور ہم اسکول میں ڈِرل اور ہاف ٹائم کے وقت ضرور اس جانب کا رُخ کرتے،ملا شعبان سے لسی جبکہ کجھور کاکا میاہ سے لیتے اور نوش فرماتے تاکہ لزت کشید کرتے۔
البتہ لزت سے زیادہ اس ماحول کی کیفیت و محسوسات کو جی لیتے، جن کے ہاں ایک طرح سے گوادری بھاؤ تاؤ بھی دیکھنے میں آتا جو ہمارے لیے روح پرور ہوتا۔
کہاں گئے ہو؟علی مُرک ذرا سخت لہجے میں اسحاق المعروف اسحاق گوجو سےمخاطب ہوئے ، کیا پھر ان کے ہاں ہو کر آ رہے ہو؟۔ میرے خیال میں آپ کا دم نکل جائے .لیکن ان کے ہاں جانا چھوڑو گے نہیں۔ شاید یہی وہ ایک ممو کی جگہ اور لمحہ اسحاق کو میسر آتا کہ اپنا غم غلط کرتا اور لمحہ بھر جینے کے احساس کو دوام بخشنے کی اپنی سی کوشش کرتا۔اور ساتھ ہی جماعت ان کے مابین مکالمہ کا لطف لے رہا ہوتا کہ اس میں ایک حُسن کے علاوہ ارتباط کی گہری صورت دکھائی دیتی ۔
اس بیچ ابراہیم اپنے گاہکوں کے لیے پان پر کتھہ پھیرتےہوئے بنائے جاتا اور اپنے آپ سے یہ سب دیکھ اور سُن کرمسکرائے جاتا کہ اس فلم کی یہ ریل یونہی چلتی رہے گی۔ کیونکہ ہماری زندگی کی رونقیں آپ کے دم خم سے روان ہیں۔
ذرا یہ خط دیکھنا اس پر کس کا نام لکھا ہے۔مجھ ایسے آشنا گاہک سے پوچھ لیتے۔کیونکہ ان کے پتے پر عرب ممالک میں گئے، لوگوں کے جو خطوط یا کچھ اور اگر وہ بیجھنا چاہتے تو انہی کے پتے پر آتے یا پھر صبرو کے لانچ سے جو دبئی سے ہوکر آتا یا پھر مسقط سےلال بخش ناھدا کےحوالے متعلقین تک پہنچ جاتے۔ البتہ صبرو کے لانچ کے حوالے سے ہمارے مولابخش مومن المعروف مولی سیاہ کے لیے ضرور ایک دو کیسٹ نور محمد نورل کے ساتھ ہی لاتے کیونکہ وہ اسی بازار میں ایک استری کی دکان کھولےاور کام میں مگن رہتے،جس کے سامنے حاجی بنگالی کی دکان تھی۔حالانکہ وہ برما سےتھے اور برمی تھے۔ لیکن چہرے سے بنگالی دکھائی دیتےاور مقامی لوگوں میں بنگالی کےنام سےجانے جاتےتھے۔ جہاں تک مولی کی بات ہے.تو انکے ہاں اُستاد نورمحمد نورل کی آواز پر مشتمل گیت غزل کے سوا اس کے ہاں اور کچھ بھی نہ سُنائی دیتا۔ چونکہ اُس وقت انقلابی گانوں کا زمانہ تھا تو مولی اس گانے کی خوب تشریع کرتے تھے۔
” سبزیں جنک شیروشکر،
وش لبزیں جنک،
من کہ تئی عاشق نیاں سبزیں جنک “
اس ماحول کو برقرار رکھنے میں بی ایس او کے مقامی طلبہ قیادت کا بڑا کردار اور دخل رہتا۔اس دکان کی خاصیت مجھ ایسے انقلاب اور فلم سےمحبت رکھنےوالوں کے لیے ایک اور بات تھی کیونکہ ان کی دکان کے اندر دیوار پر انڈین فلم کے پوسٹر آویزاں دکھائی دیتے ،جس میں بطورِخاص”شکتی” اور “میری جنگ” کےپوسٹرذہن کی دیوار پر ہنوز نقش ہیں اور یہ سب ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا کہ ہم نے یہ پوسٹر دیکھی نہ ہوں اورسب سےپہلےاحباب سےتذکرہ کرکے خوشی سے سرشار نہ ہوئے ہوں۔ جب وہاں سے دھیان ہٹا تو پھر کاکا ابراہیم کے پان کی دکان کے سامنے اور مُرک ہوٹل کی بینچ پر آ بیٹھتے۔جبکہ کاکا ابراہیم کے پان کی دکان کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں فرنچ پرفیوم اُسی طرح موجود دکھائی دیے۔تو جیسے ہمارے ہوش سنھبالتے وقت کبھی دکان میں اپنے والد کےخط کا پوچھنا ہوتا اور سامنے کھڑے ہوکر ہم بمشکل اندر دیکھ پاتے ۔کیونکہ سامنے رکھی کباٹ ہمارےقدسےاُونچی تھی اورہم عمر اور قد میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے اپنے ہاؤں کے پنجے ذرا اُوپر کرکے دیکھنے کی کوشش کرتے، اب کے ہم بڑے ہوگئے لیکن دکان کی عمر نکل گئی اور زمین میں دھیرے دھیرے دھنستی جا رہی ہے ۔جتنی بار بارشیں ہوئیں اُتنی مرتبہ چھتوں سےبارش کا پانی مٹی اوپر سےنیچے پھینکتا تو وہ کیچڑ کی شکل اختیار کرتا اور بلدیہ کا کام بھی اپنی نوعیت کا تھا۔۔یہ سب لکھتے ہوئے کوئی ساتھ کھڑا پان کی پیک سے کچھ کہہ رہا ہوتا کہ آج کی شام محمڈن نے کیا خوب کھیلا پیش کیا کہ دل خوش ہوگیا۔میرے خیال میں آج جس طرح لڑکوں نے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ان کا کھیل دیکھ کر ورلڈ کلاس کھیل کا منظر آنکھوں کے سامنےپھیل گیا۔یہ سوچتے ہوئے وہ افسردہ رہے کہ ہمارے کھلاڈی یہی بس کھیلتے رہیں اور تمام ہوجائیں۔یہی بہت ہے کہ ہماری شاموں کو اپنے کھیل کی نسبت سے سرشار رکھیں۔ جبکہ کاکا ابراہیم یہ سب بڑی دھیرج اور خاموشی سے سُنا کئے۔
“اس بار بی بی سی اپنا کیلنڈربھیجا نہیں”۔اس نے کاکا سے پوچھا۔ تو انھوں نے فرمایا کہ ” ہاں پہلےکی طرح اس بار بھی بھیجا “۔ لیکن ایک بات سُن کو کچھ تسکین ہوتی ہے کہ یہ لوگ مجھ ایسے سامع کو بھی یاد رکھتے ہیں حالانکہ میں نے انہیں کوئی خط وغیرہم ارسال نہیں کیا محض خطوط اس پتے پر آتے ہیں اور صبح شام بی بی سی کو سنتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی نامہ نگار ہماری طرف چلا آتا اور یہ دیکھ اور سُن کر حیرت زدہ اور خوش ہوتا ہے کہ آپ نے بی بی سی اردو سروس کی، کئی نسلوں کو سُنا اور جیا۔اس سے بڑی بات ہمارے لیے اور کیا ہوگی۔ اس بیچ سامنے بنچ پربیٹھےکسی بزرگوارکا،خیرجان ایک خط لکھ رہے تھے ۔کہ ان کا بیٹا کئی سال سے دبئی میں ہیں کل پرسوں ابراہیم کے پتے پر ایک نامہ موصول ہوا اور آج اس کو جواب لکھ رہے ہیں۔اہل خانہ کے لیے وہ دن صبحِ نوروز کی طرح ہوتا جب بیٹا یاباپ اور خاوند اوربھائی کی آواز پر مشتمل باتوں سے مزین ایک کیسٹ موصول ہوتا تو یہ کیسٹ دیتے ہوئے کاکا گویا ہوتےکہ آج مجلس آرائی کے لیے کسی تیسرے بندے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ خط اردو میں پڑھےاور تشریح کرتےجائیں۔اس بار محترم کی آوار،ریل کے رواں ہونے سے یونہی چلا کرے گی کہ چون اِت شُما ءُ چونیں مئے ھلک ءُ ملک، اور اس اثنا تمام سانیو ٹیپ ریکارڈر کے گرد بیٹھتے ہیں اور بڑی انہماک سےسُنتے۔البتہ ہرایک کواپنےنام سننے اور اپنی بابت سننے کا فکر رہتا۔جب باری بیوی یا بچوں کے ماں کی ہوتی تو اس کے لیےبطورِ خاص باتیں ہوتی کہ اتنا عرصہ دور رہ کر اور فکرِ معاش نے سمندر پار جانے پر مجبور کیا۔لیکن ان کی بیچ کی دوری کو صبرو اور ناھدا لال بخش کا لانچ مٹاکر ان کے خطوط اور دیگر اشیاء یہی لا رکھتے اور لوگ آ کر لےجاتے۔اور اس پتےپر شعرو ادب سے متعلق لوگوں کی وی پیز کا یہی ایک حوالہ تھا اور ساتھ لال پان شاپ کی اس بیچ شاہی بازار میں، جہاں ایک ایسا ماحول میسر آتا کہ واقعتاً ایک اور زندگی اسی دیار میں گزارنے کو من کرتا ہے۔ شاید ہماری طرح کی قوموں کے لیے عبرت پکڑنے کے لیے زندگیوں کا آثار میں بدلنا کسی آزار سے کم نہیں ہوتا لیکن یہ آزار کاکا ابراہیم کو دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کیونکر اور کیسے جیا جاتا ہے۔جب لوگ مرتے ہیں تو ان کے متعلقات بھی ختم ہوجاتےہیں۔چاہے یہ متعلقات جگہیں ہوں یا نادر داستان اور مقامی روپ سروپ کے کھیل اور شناختی حوالے،جن کےاندر ایک پوری زندگی لوگوں نےخلق کی ہوگی۔بہت پہلے میں نے مضمون بعنوان زندہ ماہیگیر مردہ ماہیگیر ” کے حوالے سے لکھا تو ایک معتبر یہ پڑھ کر سوختہ ہوئے اور کسی دوست سے کہا کہ یہ کیا ہے “زندہ ماہیگیر مردہ ماہیگیر ” کون بھلا ہے جو یہ لکھ گئے ۔آج مجھے وہ مضمون پھر دھیان کی راہداری سے دکھائی دیے کہ یہ سوال تو آج بھی پہلےکی طرح موجود ہےکہ زندہ ماہگیر اورمردہ ماہیگیر کا تناظر کہاں بدلا ہے اور آج ایک اور نقطہ بھی شامل کئے دیتے ہیں کہ زندہ شاہی بازار مردہ شاہی بازار، البتہ زندہ شاہی بازار حسرت زدہ اور امید و بیم کی کیفیت میں ہنوز اس آخری آدمی کی شکل میں موجود ہے۔ شاید انھوں نے اپنے انتظارحسین کی دنیا سے مراجعت کرکے ہماری دنیا میں ان کے روپ سروپ میں منور ہو گئے اور سوال کناں ہے کہ یہاں ممو بھی کبھی پان لینے آتی تھی اب کےنہیں آتی ہیں ۔سُنا ہے ماحول بدلا ہے، معاشرے کے تقاضے اور رشتے بدلے ہین۔اور سب سےدکھ کی بات یہ ہےکہ ہم خود سے نکلے نہیں کہ کسی چیز کی تہذیب ہوتی اور تمدن میں ایک برتر اشاریہ دیکھنے میں آتا۔ اب اس پتے پر نہ کوئی خط آتا ہے اور نہ صبرو کسی متعلقہ خاندان کا کیسٹ، اس بیچ صبرو اور لال بخش کے لانچ کا بھی سلسلہ تمام ہوا۔
کیونکہ خلیج میں جو لوگ لانچوں میں روزگار کے لیے جایا کرتے تھے وہاں کے مقامی عرب خود یہ سب کام کرنے لگے اور بلوچ چونکہ دوسرے درجے پر ان کے ہاں کام کرتے تھے۔ اس لیے بعدازاں لوگ واپس اپنے گھر آتے گئے اور ان کی خطوط وغیرہم کا سلسلہ بند رہا اور ساتھ ہی مقامی سطح پر اس کی نوعیت بدل گئی۔لوگ آپسی سلام و دعا کے لیے بظاہر ڈیجیٹل ایج میں داخل ہو گئے۔ لیکن بباطن خود سے دور ہوتے گئے۔
کاکا ابراہیم دو شغل رکھتے تھے ایک فٹبال دیکھنا اور دوسرےاکثر جمعہ کےدن کوہِ باتیل کےپیچھےکمیٹی کے مقام پر کہیں ایک پتھر پر بیٹھ کر مچھلی پکڑتے تھے،جب ایک بار ان کا پیر پھسل گیا اور وہ گِر گئے تو پاؤں میں موچ اور زخم آئے،پھر یہ سلسلہ ان سےچھوٹ گیا۔اُس وقت کوہِ باتیل پرتفریح اور مچھلی پکڑنے چونکہ لوگ چھٹیوں کے دن یا کبھی شام کے وقت جایا کرتے تھے ۔ وہ سلسلہ بھی عسکری نگرانی اورممانعت کے زمرے میں دیکھا جانے لگا اور کاکا ابراہیم کا بیشتر وقت اپنے پان کی دکان میں گزرنے لگا اور ان کے چند ایک منتخبہ پان کا شغف رکھنے والے ان سے پان لیتے تھے، حالانکہ وہ پان کسی اور کیبن میں بھی لے سکتے تھے۔ جو دشتِ شیریں کے سویٹ شاپ کے بغل میں موجود پان ہیچنے والے سے لے سکتے تھے تاہم کاکا ابراہیم سے پان لینا ان کے لیے اس وجہ سے تسکین کا باعث تھا کہ وہ پان لیتے وقت اُس زمانے کو بھی جی رہے ہوتے جو کبھی گرد ہوتا گیا اور اسکے آثاریات کا برتر اشاریہ کاکا کےہاتھ سے بنائےجانے والے پان کی شکل میں صورت پزیر یوتا تو دھیان بالکل جنموں سے ہوتا ہوا سامنے بنچ پر بیٹھے خدابخش ٹانٹار کی زبانی جلوہ افروز ہوتا جو اپنے لفظ و احساس اور لہجےمیں اُس زمانےکی جھلک اپنے آزادمنش مزاج کےمطابق بہت کچھ کہہ رہا ہوتا اور میری نگاییں گرد پڑی فرنچ پرفیوم اور جنت الفردوس عطر کی شیشیوں پر ٹِک جاتیں اور سامنے پاؤں تلے کیچڑ سے بچاتے ہوئے کاکا سے کہا کہ ایک پان میرے لیے بنائیں۔ تاکہ اس پان کی گلال میں لمحہ بھر گھل جاؤں اور خود سے ملنےکا بہانہ تراش لوں۔اورساتھ ہی علی رجو کی ایک انوکھی بات یہ تھی کہ یہ اکیلا کوجا تھا ،جنکا پارہ اکثر چڑھا رہتا تھا بس ہاتھ لگانے کی دیر تھی کہ یوں بڑھک اٹھتا اور ان کا بھی ایک پان کی دکان تھی اور بالکل اس کے بغل میں مامی کُپتائی کی دکان تھی جو کہ عمانی پاسپورٹ کا حامل بلوچ تھا۔ البتہ اس میں نسوانیت بہت تھی ۔مہینہ بھر عمان جاتا اور پھر واپس آکر کُپتہ،باکلہ۔بنا کر بیچاکرتا تھا۔اوربالکل دائیں سمت گل محمد کھجور والےکی دکان تھی جبکہ جماعت سلوم کا باربر شاپ ہوا کرتا تھا ۔البتہ اس کے آخری اور مشرق کی طرف داخل ہونے والے کونے میں کسی ہندو کی دکان تھی جبکہ سامنے بعدازاں امین نے ایک استری کی دکان کھول لی اور اس کا میوزک کا ذوق بہت اعلیٰ تھا ۔جس کے ہاں اکثر سی ایچ آتما ،پنکج ملک ،سہگل اور غزل میں مہدی حسن،عابدہ اور حبیب ولی محمد کو جب جانا ہوتا تو ضرور سُننے کو ملتے۔بالکل ان کے بیچ میں اسلم تابش کی دکان تھی۔ان کے ہاں بیشتر شادی بیاہ کے لیےڈیکوریشن چیزیں رکھی جاتی تھی اور محفلِ موسیقی کا اہتمام بھی انہی سے کیا جاتا تھا۔البتہ ان سب کرداروں کو ابراہیم اپنے آپ میں لیے سانس لے رہا تھا یوں محسوس ہوتا کہ یہ محض ابراہیم پان والا نہیں بلکہ تاریخ کا زندہ ورق ہے جو ہنوز پڑھا جا رہا ہے۔

اے تاک ءَ سوشل میڈیا ءَ شنگ کنئے


« ( (Previous Post) پشتءِ نبشتانک )
((Next Post) دیمءِ نبشتانک ) »



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *