Main Menu

گوادر ساحل پر نایاب کچھوے خطرے کے شکار – سلیمان ھاشم

گزشتہ کئی مہینوں سے گوادر پدی زر میں دنیا کے یہ خوبصورت آبی حیات ساحل کے کنارے مرے هوئے حالت میں دیکهے گئے ہیں. دنیا کے مہزیب اقوام اپنے ساحلوں کی حفاظت کرتے ہیں ان کو گنده ہونے سے بچاتے ہیں لیکن بصد افسوس ہمارے عوام خصوصاََ ماہی گیر طبقہ اور عوام میں شعور و آگاہی کی کمی سے هم اپنے ساحل کو صاف ستهرا رکهنے میں بری طرح ناکام ہیں. گزشتہ دنوں میں نے پدی زر کے ساحل پر ایک اور سبز اور نایاب کچهوے کو مرده حالت میں دیکها وه کیسے مرا کس طرح اس کی موت واقع هوئی اس بابت ہمیں کوئی علم نہیں لیکن قیاس کیا جا سکتا هے کہ یہ جب ساحل پر انڈے دینے آتی هیں تو وه سمندری لہروں اور بڑے بڑے پتهروں سے ٹکرا کر ہلاک هو جاتے ہیں یازخمی ہو جاتے ہیں۔ . یا وه لانچوں اور کشتیوں کے جالوں میں پھنس کر بھی ہلاک ہو سکتے ہیں. یا کشتیوں کے جالوں میں پهنس جاتے ہیں کئی گھنٹے جالوں میں پھنسنے کے بعد وہ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ یہ ایسی مچهلی یا جانور هے کہ وه باہر زمین پر کئی گھنٹے رینگ کر بھی زنده رہتے ہیں اور وه چهوٹی مچهلیوں کے علاوه خشکی پر گهاس کها کر بهی زنده ره سکتا هے. لیکن کچھ ماہی گیروں کے جالوں میں اگر یہ پهنس جائے تو وه اس کو سمندر میں پھینکنے کی بجائے خشکی پر بے دردی سے پھینکتے ہیں وه پہلے هی جالوں میں پهنس کر زخمی حالت میں ہوتے ہیں پھر ان کو تڑپنے کے لئے زمین پر زور سے گرایا جائے تو اکثر ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

مجهے یاد هے کہ مسقط عمان میں جب یہ مچهیروں کے جال میں پھنس جاتے تھے تو وه ان کو آرام سے جالوں سے چھڑا کر آرام سے سمندر میں ڈال دیتے تھے. اگر غلطی سے ساحل پر عمان بلدیہ کی نظر اس پر پڑتی وه فوری طور پر کشتی مالکان پر 20ریال جرمانہ عائد کرتی لیکن پاکستان میں کچھوے تو کچهوئے انسان کی قیمتی زندگیوں کی کوئی اہیمیت ہی نہیں خلیج کے هر ملک میں جانوروں کی زندگی کی بڑی اہمیت ہے۔کسی جانور اور پرندے کی شکار پر سخت پابندی هے اگر کسی نے غلطی سے ایک چڑیا کو گولی کا نشانہ بھی بنائے تو قانون فوری حرکت میں آ جاتی هے اس بندے کو جیل کی هوا کهانی پڑے گی۔

سمندر میں پائے جانے والے مچهلیوں کی طرح سب سے بڑے کچھوؤں میں سبز کچهوے پائے جاتے ہیں۔ یہ ہر سمندر میں پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ بحربلوچ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ کم گہرے اور ساحلی پانیوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی عمر 80 برس کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ بالغ سبز سمندری کچھوا پانچ فٹ لمباہوتا ہے۔ ان کا اوسط وزن 68 سے 190کلوگرام ہوتا ہے۔ بعض کچھوؤں کا وزن حیران کن حد تک زیادہ ہوتا ہے۔ وزن کرنے پر اس نوع کا ایک کچھوا 395 کلوگرام کا نکلا۔ ان کچھوؤں کے بیرونی خول پر مختلف رنگ ہوتے ہیں جن میں سبز کے علاوہ خاکستری، سیاہ، بھورا شامل ہیں۔ نیچے کی جانب رنگ سفیدی مائل اور زرد ہوتا ہے۔ کچھوؤں کی اس نوع کا نام اس کے بیرونی سبز رنگ کی وجہ نہیں رکھا گیا بلکہ ان کی چکنائی کے سبز رنگ کے سبب رکھا گیا ہے جو جسم کے اندرونی حصے میں پائی جاتی ہے۔ بیشتر دیگر سمندری کچھوؤں کے برخلاف ان کی خوراک عموماً نباتات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ الجائی یا سمندری گھاس کھاتے ہیں۔ تاہم بلوغت تک پہنچنے سے قبل یہ مچھلیوں کے انڈے، صدفیائی جانور، جیلی فش اور چھوٹے کیڑے وغیرہ کھاتے ہیں۔ سبز سمندری کچھوے عموماًڈھائی سے تین کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیرتے ہیں لیکن اگر انہیں خطرہ ہو تو ان کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے اور 35کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ سبز کچھوے پانی کے اندر سانس نہیں لے سکتے لیکن یہ اپنی سانس کو طویل دورانیے کے لیے روک ضرور سکتے ہیں۔ یہ دورانیہ پانچ گھنٹے کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ سانس روکنے پر ان کے دل کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ اس طرح جسم کم آکسیجن خرچ کر کے اس اہم عنصر کی بچت کرتا ہے۔ اس دوران دل کی ایک دھڑکن کا دورانیہ 9 منٹ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ ان کچھوؤں کی نظر بہت اچھی ہوتی ہے اور انہوں نے سمندری ماحول میں اپنے آپ کو خوب ڈھالا ہوا ہے۔ البتہ خشکی پر ان کی نظر کمزور ہو جاتی ہے کیونکہ ان کی آنکھوں کے عدسے کروی ہیں جو پانی میں بہتر کام کرتے ہیں۔ دیگر سمندری کچھوؤں کی طرح یہ بھی طویل ہجرت کرتے ہیں۔ خوراک کے حصول کے علاقوں سے افزائشِ نسل کے لیے مرطوب اور نیم مرطوب علاقوں کے ساحلوں تک یہ 26 ہزار کلومیٹر سے زائد کا سفر تیر کر کرتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے طویل سفر طے کرنا ہوتا ہے اس لیے ان کے تیرنے کا اپنا ڈھنگ ہے۔ یہ کچھوے سمندری لہروں کی سمت، سورج کی روشنی اور درجہ حرارت کو استعمال میں لاتے ہیں۔ سمندری کچھوؤں میں ایک مقناطیسی قطب نما ساہوتا ہے جس سے یہ سمت کے تعین سمیت دیگر امور میں مدد لیتے ہیں۔ مادہ بڑی تعداد میں انڈے دیتی ہیں اور اپنے علاقوں کو لوٹ جاتی ہیں۔ دو ماہ بعد انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں اور سمندر کی جانب چل پڑتے ہیں۔ سمندر میں داخل ہونے کے بعد انہیں بالغ ہونے میں 20 سے 50 برس لگتے ہیں۔ سمندر میں ان کچھوؤں کے فطری شکاری بہت کم ہیں۔ زیادہ تر بڑی شارک انہیں اپنا نشانہ بناتی ہیں۔ سبز سمندری کچھوے 140 ممالک کے ساحلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی افزائش کے علاقے 80 ممالک میں ہیں۔ اس کے باوجود انہیں ناپید ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ ان کا شکار بھی ہوتا ہے اور یہ مچھلیاں پکڑنے کے لیے بچھائے گئے جالوں میں بھی پھنس جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے انڈوں کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر سبز قسمتی اور طویل العمری کی علامت سمجھتے ہیں۔

اے تاک ءَ سوشل میڈیا ءَ شنگ کنئے


« ( (Previous Post) پشتءِ نبشتانک )
((Next Post) دیمءِ نبشتانک ) »



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *