Main Menu

تعلیم، حکومتی حکمت عملی، اور بلوچستان

تعلیم کسی بھی ملک یا قوم کا وہ بنیادی ستون ہے جو اگر کمزور ہو تو عمارت زمین بوس ہونے میں وقت نہیں لیتی اور یہاں بلوچ قوم کی مثال اس عمارت کی سی ہے جس کا یہ بنیادی ستون(تعلیم) حد درجہ کمزور ہے اگر بروقت اسکی مرمت ناں کی گئی تو یہ قوم بھی زمین بوس ہونے میں بلکل دیر نہیں کریگی. بلوچستان جو کہ پاکستان کا سب سے پسماندہ ترین صوبہ ہے جو کے بھر پور قدرتی وسائلوں سے مالامال ہونے کہ باوجود ترقی کی سیڑھی نہیں چڑھ پایا اگر بلوچستان کے تعلیمی بجٹ پر اک نظر ڈالیں تو بنسبت پاکستان کے باقی صوبوں کے بلوچستان کا سالانہ تعلیمی بجٹ سب سے کم ہے حالنکہ شرح خواندگی باقی صوبوں سے بہت کم ہے تو بجٹ ذیادہ ہونا چائیے تھا مگر نہیں یہاں تو اُلٹی گنگا بہنے کا رواج جو ٹہرا.
بلوچ قوم کی تعلیم سے دوری کے بہت سارے اسباب ہیں کچھ ہمارے اپنوں کی کوتائیاں اور کچھ مملکت خداد کی آتی جاتی سرکاروں کی نوازشیں ہیں گو کہ اس کارخیر میں سب ہی برابر کے شریک ہیں.
چلو کل تک جو کچھ کیا گیا دانستہ طور پر یا وجہ کچھ بھی ہو اسے ہم بدل تو نہیں سکتے مگر ہم آج کی تگ و دو کرکے اپنے اور اپنے آنے والے نسلوں کے کل کے لیے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے تو کوشش کرسکتے ہیں.
اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کی governmental policies  نے آج بلوچستان کو اس نہچ پر لا کھڑا کیا ہے ہم کب تک بابا آدم کے زمانے کے پالیسیز پر سر خم کرتے رہینگے. کم اس کم ان میں کچھ تبدیلیوں کو زرور زیر بحث لیا جانا چائیے تاکہ جو حالات ہیں ان میں بہتری آ سکے.
جیسے کہ
1۔کسی کو تعلیم سے دور رکھنا ایسا ہے کہ ایک انسان کی دونوں ٹانگیں اور دونوں ہاتھ کاٹھ کر اس کو بے یار و مددگار کسی گیاباں میں چھوڑ دیا جاہے حکومت وقت کو چائیے کہ وہ تعلیم کے معاملات کو سنجیدگی سے لے. تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں میں اساتذہ کی حاضریاں ممکن بنائی جائیں اور خاص کر کتابوں کو اپگریڈ کیا جائے جس وقت میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا آج بھی دوسری جماعت کے طلبہ و طلبات کو وہی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں. جنہیں پڑھ کر وہ دور جدید کے اس ٹیکنالوجیکل دور کے دوڑ میں ہمیشہ ڈرے ڈرے نظر آتے ہیں کہ ہم بلا مہذب دنیا سے اس ریس میں کیسے جیت سکتے ہیں.
2۔ اپنے ہی گھر سے نکل مکانی پر آج لوگ مجبور ہیں کیونکہ ناں تو پورے ارض بلوچستان میں معیاری تعلیم ہے اور ناں ہی صحت کی بنادی سہولیات موجود ہیں اور ناں ہی ٹرانسپورٹیشن کی بہتر سہولیات ہیں نا کوہی بجلی پانی گیس کا کوہی موثر نظام ہے اور سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی کا تمغہ اسی ارض بلوچستان کے پاس ہے گویا ہر وہ بنیادی چیز جو زندگی گزارنے کے لیے چائیے ارض بلوچستان اس سے محروم ہے. حکومت وقت اس پر بھی ایک نظر ڈالے.
3۔ اور سب سے اہم مسئلہ یہاں یہ ہے کہ کوہی بھی ان چیزوں کی بات نہیں کرنا چاھتا یا اگر چاھتا بھی ہے تو کر نہیں پاتا اور اگر کرتا بھی ہے تو اسکی کوہی نہیں سنتا کہ یہاں کسی بھی عام آدمی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان سب چیزوں پر بات کر سکے اور اپنی بات کو آگے تک لے جا سکے حالنکہ پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق پاکستان کا آئین دیتا ہے. خدارا ہمیں سنا جائے کہ ہم کیا چاہتے ہیں ہماری کیا ضروریات ہیں.
اے تاک ءَ سوشل میڈیا ءَ شنگ کنئے


« ( (Previous Post) پشتءِ نبشتانک )



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *