Main Menu

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جدید کیچ کے بانی ہیں

اس میں کوئی دو رائے اور اختلاف کی ہرگز گنجائش نہیں ہے کہ سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جدید کیچ کے بانی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچ نیشنلزم کی نرسری بی ایس او سے نشونما پا کر زمینی ومعروضی حقائق کسی بھی دوسرے رہنما سے زیادہ ادراک رکھتے ہیں۔وہ سماجی طبیب کے ساتھ ساتھ حقیقی ڈاکٹر ہیں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ان کا بلوچستان میں کوئی ثانی نہیں ہے۔وہ تاریخ کے جھروکوں سے آشنا ہیں اور ادب کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
ان کی سیاسی بصیرت اور فہم و فراست یہ ہے کہ سابق کمشنر مکران شہید کیپٹن طارق زہری نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہمارے نیلسن منڈیلا ہیں۔
سابق اسٹنٹ کمشنر تربت کبیر زرکون نے جب تربت شہر کی چند تصاویر اپنے اسلام آباد کے دوست کو واٹس آپ کی تو انہوں نے پوچھا جناب! آپ کی پوسٹنگ کہاں ہے ؟ تو کبیر زرکون نے تربت کہا تو اسے یقین ہی نہیں ہوا کہ رات کو جگمگاتے لائٹس تربت کے ہرگز شاہکار نہیں ہوسکتے۔وہ انگشت بدندان رہ گیا۔اور تو اور کنسلٹنٹ گروپ( سی جی)کے سی ای او نے بھی کہا کہ تربت کمال کا شہر ہے۔ڈاکٹر صاحب کا کانسپٹ نوٹ ہے۔پاکستان کے دس سے زائد سینیٹرز نے پنوں کی سرزمین تربت کا دورہ کیا تو وہ کشادہ سڑکوں،علم وادب کے شاہکار چوکوں کے گرویدہ رہے اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
ترقی کا سفر یہاں تک منتج نہیں ہے۔تربت یونیورسٹی،مکران میڈیکل کالج،تربت سٹی پروجیکٹ سمیت متعدد روڈز کی کشادگی وتعمیر سمیت ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان تربت یونیورسٹی کے دورے پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
نیشنل پارٹی مسلسل جدوجہد کے بھٹی میں تپ کر کندن بن چکا ہے۔لیڈرشپ،ورکرز اور عوام کا ٹرائیکا ہے۔جس کا اولین ترجیح اور مقصد عوام کو ریلیف دینا اور ان کے مسائل حل کرنا۔سوشل سیکورٹی دینا اور آئین کی حکمرانی کے لئے جدوجہد کرنا۔ورکرز پارٹی کے فکری اساس اور اثاثے ہیں۔پارٹی ورکرز کسی مصلحت کا شکار نہیں ہیں۔ان کی کمٹمنٹ پارٹی کے منظور کے ساتھ اٹل ہے۔ کبھی گرم سرد ان کے چٹان ارادوں کو شکست وریخت نہیں کرسکتی ہے۔نیشنل پارٹی کا بیانیہ آزاد خودمختار الیکیشن کمیشن کا قیام،صاف وشفاف انتخابات کو یقینی بنایا,
آئین وقانون کی بالادستی،
جمہوریت کی حکمرانی،
آزاد میڈیا،غیر جانبدار اکاؤنٹیبیلٹی،صوبائی خودمختاری شامل ہیں_ اس کے علاوہ، ڈاکٹر    عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان میں انقلابی تبدیلییں لایا اور انہوں نے تعلیم سے متعلق تعلیم کے بجٹ کو 4 سے 28 فیصد بڑھایا جو کہ ایک انقلابی اقدام تھی اور متعدد اسکولوں سے ابتدائی اسکولوں کو ابتدائی اور درمیانی، مڈل سے ہائی اور اعلی اور ثانوی اور اعلی درجے سے اعلی درجے میں تبدیل کیا گیا تھا تاکہ ضروری طلباء کو دروازے پر تعلیم مہسر ہو.
    ڈاکٹر    عبدالمالک بلوچ     کے دور حکومت میں تعلیم کے حوالے سے اقدامات کا مختصر جائزہ
–تین نئے میڈیکل کالجز
–1 میڈیکل یونیورسٹی
–4 نئے  پبلک یونیورسٹی
-10 نئے یونیورسٹی سب کیمپسز
–1200 نئے اسکول کی تعمیر
–تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی بجٹ جو 4 فیصد سے بڑھا کر 28 فیصد کردیا
–بلوچستان کا پہلا ایجوکیشن سیکٹر پلان 2013-2018 دیا
–700 نئے ٹیچرز کی میڑٹ پے بھرتیاں
–5 ہزاز پیکج کانٹریکٹ ٹیچرز کو مستقل کرنا
–بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو کسی بھی قسم کے مداخلت سے باختیار بنایا جس سے اب تک سینکڑوں میرٹ پر دیگر نوجوان مستفید ہورہے ہے۔
–بلوچستان بھر میں نقل کی حوصلہ شکنی کی گئی جس سے اسکول، اکیڈمی اور کالجز پھر سے آباد ہوئے۔
–سیکنڑوں بند اسکولوں کی بحالی اور ان کو پرائمری سے یائی اسکول کا درجہ دلوانا
–گھوسٹ ٹیچرز اور گھوسٹ اکسولز کے خلاف موثر کاراوائی
–بلوچستان ایجوکیشن فنڈ کا قیام
–نادار طلباء و طالبات میں اسکالرشپس کی فراہمی
–رئیل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جس سے ٹیچرز  سکولوں میں حاضری کو یقینی بنایا
–ایجوکیشن ریفارمز کے تحت کلسٹر سسٹم متعارف کرایا جس کے تحت ڈیولپمنٹ اختیارات سیکڑیز کی بجائے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور ہائی سکول پرنسپل کو منتقل ہوئے۔
–ٹیچرز کی ٹریننگ کو یقینی بنایا
– ہرسال بھرپور داخلہ مہم کا انعقاد کیا
 –لاء کالجز، پولی ٹیکنیک کالجز دئیے
–ملک میں تعلیمی کارکردگی کو پرکھنے والے ادارے ایسر اور الف اعلان کے 2016-2013 کے رپورٹس کے مطابق بلوچستان حکومت کی بہتر تعلیمی کارکردگی کی وجہ سے بلوچستان درجہ بندی میں سندھ سے بہتر پرفارم کرتے ہوئے ملک میں آخری درجہ سے تیسرے درجے پر آیا۔
یہ وہ انقلابی کام ہیں جو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے مختصر ڈھائی سالہ حکومت کے دوران کیئے۔ یقینا مستقبل میں تعلیم کے حصول اور بہتری کے لیئے ان ہی اداروں سے نئی رائے کھلے گی_

About Nawaz Ellahi

The writer was former Director of Baloch English Language Center and a student of the Law Department University of Turbat. The writer can be reached at nawazellahi@gmail.com

اے تاک ءَ سوشل میڈیا ءَ شنگ کنئے


« ( (Previous Post) پشتءِ نبشتانک )
((Next Post) دیمءِ نبشتانک ) »



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *